غزل

चमन में गुल ने जो कल दावा-ए-जमाल किया

चमन में गुल ने जो कल दावा-ए-जमाल किया
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک پھول (گل) کے جمال کے دعوے سے شروع ہوتی ہے۔ اس جمال کی وجہ سے محبوب (یار) نے اسے بہت رنگین کیا، اور فلک نے اس کی رحمت میں شاعر کو پیدا کیا۔ آخر میں، شاعر کہتا ہے کہ اس کی آنکھیں اب خواب سے نہیں کھلتی ہیں، جو کہ محبوب کے خواب میں خیال کرنے سے متعلق ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
चमन में गुल ने जो कल दावा-ए-जमाल किया जमाल-ए-यार ने मुँह उस का ख़ूब लाल किया
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا
چمن میں گل نے جو کبھی جمال کا دعویٰ کیا، یار کے جمال نے اس کا چہرہ بہت سرخ کر دیا۔
2
फ़लक ने आह तिरी रह में हम को पैदा कर ब-रंग-ए-सब्ज़-ए-नूरस्ता पाएमाल किया
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر برنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا
آسمان نے آپ کی رحمت میں مجھے پیدا کیا اور مجھے سبز نور کے رنگین جمال سے سجا دیا۔
3
रही थी दम की कशाकश गले में कुछ बाक़ी सो उस की तेग़ ने झगड़ा ही इंफ़िसाल किया
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
گلے میں ابھی بھی جان کی سانس باقی تھی، مگر اس کی تلوار کی تیزی نے ہی جدائی کر دی۔
4
मिरी अब आँखें नहीं खुलतीं ज़ोफ़ से हमदम न कह कि नींद में है तू ये क्या ख़याल किया
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
میری اب آنکھیں نہیں کھلتیں زوف سے ہمدم، نہ کہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ میری آنکھیں تمہاری مستی سے اب نہیں کھلتیں، اے محبوب؛ تم یہ نہیں کہنا کہ میں صرف خواب میں ہوں—تم نے کیا خیال کیا ہے۔
5
बहार-ए-रफ़्ता फिर आई तिरे तमाशे को चमन को युम्न-ए-क़दम ने तिरे निहाल किया
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
بہارِ رُفتا پھر آئی تیرے تماچے کو؛ چمن کو یونِ قدم نے تیرے نِہال کیا۔
6
जवाब-नामा सियाही का अपनी है वो ज़ुल्फ़ किसू ने हश्र को हम से अगर सवाल किया
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
جواب-نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف، کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا ۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ سیاہی کے جواب-نام (جواب-نامہ) کی وہ زلف (کالی گھٹائیں) صرف اس کی اپنی ہے، اور اگر کسی نے قیامت (حشر) کے دن ہم سے سوال کیا، تو کیا پتہ چلے گا۔
7
लगा न दिल को कहीं क्या सुना नहीं तू ने जो कुछ कि 'मीर' का इस आशिक़ी ने हाल किया
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
تو نے میرے دل کو کچھ نہیں بتایا، جو 'میر' کی اس عشق نے حال کیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.