जवाब-नामा सियाही का अपनी है वो ज़ुल्फ़
किसू ने हश्र को हम से अगर सवाल किया
“The curtain of blackness, the tresses are hers alone, If the world itself should question us, what will be known?”
— میر تقی میر
معنی
جواب-نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف، کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا ۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ سیاہی کے جواب-نام (جواب-نامہ) کی وہ زلف (کالی گھٹائیں) صرف اس کی اپنی ہے، اور اگر کسی نے قیامت (حشر) کے دن ہم سے سوال کیا، تو کیا پتہ چلے گا۔
تشریح
یہ شعر خود اعتمادی اور بے باکی کا اظہار ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ میری یہ سیاہ زلفیں، میرا اپنا جواب-نامہ ہیں، اور میں اس کے بارے میں قیامت سے بھی نہیں ڈرتا۔ یہ اپنی ذات پر مکمل یقین کا نغمہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
