“The curtain of blackness, the tresses are hers alone, If the world itself should question us, what will be known?”
جواب-نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف، کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا ۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ سیاہی کے جواب-نام (جواب-نامہ) کی وہ زلف (کالی گھٹائیں) صرف اس کی اپنی ہے، اور اگر کسی نے قیامت (حشر) کے دن ہم سے سوال کیا، تو کیا پتہ چلے گا۔
یہ شعر خود اعتمادی اور بے باکی کا اظہار ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ میری یہ سیاہ زلفیں، میرا اپنا جواب-نامہ ہیں، اور میں اس کے بارے میں قیامت سے بھی نہیں ڈرتا۔ یہ اپنی ذات پر مکمل یقین کا نغمہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
