غزل
बे-रवी ओ ज़ुल्फ़-ए-यार है रोने से काम याँ
बे-रवी ओ ज़ुल्फ़-ए-यार है रोने से काम याँ
یہ غزل محبوب کے زلفوں کی دلکش خوبصورتی اور اس کے عشق کے جادو کا بیان ہے۔ شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس محبت کی گہرائی اتنی ہے کہ رونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ یہ غزل عشق میں مایوسی اور جدائی کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
बे-रवी ओ ज़ुल्फ़-ए-यार है रोने से काम याँ
दामन है मुँह पे अब्र-ए-नमत सुब्ह-ओ-शाम याँ
بے روے و زلف یار ہے رونے سے کام یاں
دامن ہے منہ پہ ابر نمط صبح و شام یاں
اے محبوب، تیرے زُلفِ یار رونا سبب ہے، اب کیا کام ہے؟ یا یہ چہرے پر نعمت کا پردہ، صبح و شام، غضب کا بادل ہے؟
2
आवाज़ा ही जहाँ में हमारा सुना करो
अन्क़ा के तौर ज़ीस्त है अपनी ब-नाम याँ
آوازہ ہی جہاں میں ہمارا سنا کرو
عنقا کے طور زیست ہے اپنی بہ نام یاں
جگہ کے ہر کونے میں ہماری آواز سناؤ، کیونکہ یہ زندگی بس ایک گزرتا لمحہ ہے، میرے دوست۔
3
वस्फ़-ए-दहन से उस के न आगे क़लम चले
या'नी क्या है ख़ामे ने ख़त्म कलाम याँ
وصف دہن سے اس کے نہ آگے قلم چلے
یعنی کیا ہے خامے نے ختم کلام یاں
اس کے وصف-ِ دहन سے تو آگے شاعر کا قلم نہیں چلتا؛ یا شاعر، کیا میں کوئی خامی ہے، یا یہ کلام ہی ختم ہے؟
4
ग़ालिब ये है कि मौसम-ए-ख़त वाँ क़रीब है
आने लगा है मुत्तसिल उस का पयाम याँ
غالب یہ ہے کہ موسم خط واں قریب ہے
آنے لگا ہے متصل اس کا پیام یاں
غالب، یہ ہے کہ موسمِ عشق وں قریب ہے؛ اس کا مسلسل پیغام آ رہا ہے، یاں۔
5
मत खा फ़रेब-ए-इज्ज़ अज़ीज़ान-ए-हाल का
पिन्हाँ किए हैं ख़ाक में यारों ने दाम याँ
مت کھا فریب عجز عزیزان حال کا
پنہاں کیے ہیں خاک میں یاروں نے دام یاں
پیارے، محبوب کی حال کا جو فریب ہے، وہ نہ کھانا۔ میرے دوستوں نے یہاں اس کا دام مٹی میں چھپا دیا ہے۔
6
कोई हुआ न दस्त-बसर शहर-ए-हुस्न में
शायद नहीं है रस्म-ए-जवाब सलाम याँ
کوئی ہوا نہ دست بسر شہر حسن میں
شاید نہیں ہے رسم جواب سلام یاں
کوئی ہوا نہ دستبسَر شہرِ حُسن میں، شاید نہیں ہے رسمِ جواب سلام یہاں۔
7
नाकाम रहने ही का तुम्हें ग़म है आज 'मीर'
बहुतों के काम हो गए हैं कुल तमाम याँ
ناکام رہنے ہی کا تمہیں غم ہے آج میرؔ
بہتوں کے کام ہو گئے ہیں کل تمام یاں
اے میر، آج تمہیں ناکام رہنے کا کیا غم ہے؟ تمہاری پوری زندگی بہت سے کاموں میں گزر گئی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
