غزل
बार-हा गोर-ए-दिल झंका लाया
बार-हा गोर-ए-दिल झंका लाया
یہ غزل دل کو زخم دینے اور وفا کی شرائط کو پورا کرنے کی بات کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ دل کا زخم اور وفا کے اصول دونوں لے کر آیا ہے، اور ایک ایسے پیار کی قدر دکھائے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
نغمہ سنیں
1
बार-हा गोर-ए-दिल झंका लाया
अब के शर्त-ए-वफ़ा बजा लाया
بارہا گور دل جھنکا لایا
اب کے شرط وفا بجا لایا
بار بار گورِ دل جھنکا لایا، اب کے شرطِ وفا بجا لایا۔
2
क़द्र रखती न थी मता-ए-दिल
सारे आलम में मैं दिखा लाया
قدر رکھتی نہ تھی متاع دل
سارے عالم میں میں دکھا لایا
دل کی قدر نہیں تھی، مگر میں نے اسے سارے عالم میں دکھا دیا۔
3
दिल कि यक क़तरा ख़ूँ नहीं है बेश
एक आलम के सर बला लाया
دل کہ یک قطرہ خوں نہیں ہے بیش
ایک عالم کے سر بلا لایا
دل کے اک قطرہ خون نہیں ہے بیش؛ ایک عالم کے سر بلا لایا۔
4
सब पे जिस बार ने गिरानी की
उस को ये ना-तवाँ उठा लाया
سب پہ جس بار نے گرانی کی
اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا
جس شخص کو دنیا نے گرا دیا، شاعر نے اسے یہ نغمہ سنا کر دوبارہ کھڑا کر دیا।
5
दिल मुझे उस गली में ले जा कर
और भी ख़ाक में मिला लाया
دل مجھے اس گلی میں لے جا کر
اور بھی خاک میں ملا لایا
دل مجھے اُس گلی میں لے جا کر اور بھی خاک میں ملا لایا۔
6
इब्तिदा ही में मर गए सब यार
इश्क़ की कौन इंतिहा लाया
ابتدا ہی میں مر گئے سب یار
عشق کی کون انتہا لایا
شاعر کہتا ہے کہ میرے سارے دوست آغاز میں ہی مر گئے؛ عشق نے کون سا انجام لایا؟
7
अब तो जाते हैं बुत-कदे से 'मीर'
फिर मिलेंगे अगर ख़ुदा लाया
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
اب تو جاتے ہیں بت-کڈے سے، 'میر'۔ پھر ملیں گے اگر خدا لایا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
