Sukhan AI
غزل

बार-हा गोर-ए-दिल झंका लाया

बार-हा गोर-ए-दिल झंका लाया
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل دل کو زخم دینے اور وفا کی شرائط کو پورا کرنے کی بات کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ دل کا زخم اور وفا کے اصول دونوں لے کر آیا ہے، اور ایک ایسے پیار کی قدر دکھائے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
क़द्र रखती न थी मता-ए-दिल सारे आलम में मैं दिखा लाया
دل کی قدر نہیں تھی، مگر میں نے اسے سارے عالم میں دکھا دیا۔
3
दिल कि यक क़तरा ख़ूँ नहीं है बेश एक आलम के सर बला लाया
دل کے اک قطرہ خون نہیں ہے بیش؛ ایک عالم کے سر بلا لایا۔
4
सब पे जिस बार ने गिरानी की उस को ये ना-तवाँ उठा लाया
جس شخص کو دنیا نے گرا دیا، شاعر نے اسے یہ نغمہ سنا کر دوبارہ کھڑا کر دیا।
5
दिल मुझे उस गली में ले जा कर और भी ख़ाक में मिला लाया
دل مجھے اُس گلی میں لے جا کر اور بھی خاک میں ملا لایا۔
6
इब्तिदा ही में मर गए सब यार इश्क़ की कौन इंतिहा लाया
شاعر کہتا ہے کہ میرے سارے دوست آغاز میں ہی مر گئے؛ عشق نے کون سا انجام لایا؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

बार-हा गोर-ए-दिल झंका लाया | Sukhan AI