इब्तिदा ही में मर गए सब यार
इश्क़ की कौन इंतिहा लाया
“All my friends died in the beginning; what end has love brought?”
— میر تقی میر
معنی
شاعر کہتا ہے کہ میرے سارے دوست آغاز میں ہی مر گئے؛ عشق نے کون سا انجام لایا؟
تشریح
یہ شعر عشق کے آغاز میں ہی فنا ہو جانے کے دکھ کو بیان کرتا ہے۔ میر تقی میر پوچھتے ہیں کہ محبت کا انجام کیا ہے، کیونکہ تو محبت کی شروعات میں ہی سب کچھ مر چکا۔ یہ ایک گہرا فلسفہ ہے جو رشتوں کی عارضی فطرت پر بات کرتا ہے۔
