غزل
ब-रंग-ए-बू-ए-गुल उस बाग़ के हम आश्ना होते
ब-रंग-ए-बू-ए-गुल उस बाग़ के हम आश्ना होते
یہ غزل ایک خاص باغ یا ماحول سے پیدا ہونے والی وابستگی اور محبت کے گہرے احساس کو بیان کرتی ہے۔ شاعر خود کو اس پیارے ماحول کا حصہ سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس دنیا کی فانیت اور انسانی دل کی بے چینی پر بھی غور کرتا ہے۔ آخر میں، یہ نظم شاعر کی خدا کے سامنے اپنی عاجزی اور وابستگی کو دوبارہ قائم کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ब-रंग-ए-बू-ए-गुल उस बाग़ के हम आश्ना होते
कि हमराह-ए-सबा टुक सैर करते फिर हवा होते
گلاب کی خوشبو سے ہم اس باغ سے واقف تھے، جہاں ہم ہوا کے ساتھ ٹہلتے پھرتے تھے۔
2
सरापा आरज़ू होने ने बंदा कर दिया हम को
वगर्ना हम ख़ुदा थे गर दिल-ए-बे-मुद्दआ होते
آپ کی غیر مانگی خواہشوں نے ہمیں بے بس کر دیا؛ ورنہ، ہم خدا تھے، اگر دل بے مدعا نہ ہوتے۔
3
फ़लक ऐ काश हम को ख़ाक ही रखता कि इस में हम
ग़ुबार-ए-राह होते या कसू की ख़ाक-ए-पा होते
اے فلک، کاش! کہ ہمیں خاک ہی رکھتا، کہ اس میں ہم / غبارِ راہ ہوتے یا کُسُو کی خاکِ پا ہوتے
4
इलाही कैसे होते हैं जिन्हें है बंदगी ख़्वाहिश
हमें तो शर्म दामन-गीर होती है ख़ुदा होते
إلٰہی کیسے ہوتے ہیں جنہیں ہے بندگی خِواش، ہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے۔
5
तू है किस नाहिए से ऐ दयार-ए-इश्क़ क्या जानूँ
तिरे बाशिंदगाँ हम काश सारे बेवफ़ा होते
اے میرے عشق کے کارِ خیر، آپ کس جہاں سے ہیں، میں کیا جانوں۔ کاش آپ کے تمام باسی بے وفا ہوتے۔
6
अब ऐसे हैं कि साने' के मिज़ाज ऊपर बहम पहुँचे
जो ख़ातिर-ख़्वाह अपने हम हुए होते तो क्या होते
اب ایسے ہیں کہ سا نے کے مزاج پر وہم چھا گیا ہے؛ اگر ہماری چاہتیں پوری ہوتی تو ہم کیا ہوتے۔
7
कहीं जो कुछ मलामत गर बजा है 'मीर' क्या जानें
उन्हें मा'लूम तब होता कि वैसे से जुदा होते
कहीं जो कुछ कमियाँ हैं, شاعر کیسے جان سکتے ہیں؟ انہیں تو یہ بات تب معلوم ہوتی ہے کہ وہ اُس راہ سے جدا होते ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
