غزل

अंदोह से हुई न रिहाई तमाम शब

अंदोह से हुई न रिहाई तमाम शब
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ گہرے غم اور اداسی سے پوری رات آزادی نہیں ملی۔ شاعر نے اپنا قصہ شروع کیا اور اپنی آنکھیں کھول دیں، جس کی وجہ سے وہ پوری رات سو نہیں سکا۔ وہ اپنی آنکھوں سے ستاروں کی صبح تک دیکھتا رہا اور اپنے دشمنوں سے پوری رات لڑا۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
अंदोह से हुई न रिहाई तमाम शब मुझ दिल-ज़दा को नींद न आई तमाम शब
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب
اندوہ سے پوری رات رہائی نہیں ملی، اس لیے دل زدا کو پوری رات نیند نہیں آئی۔
2
जब मैं शुरू क़िस्सा किया आँखें खोल दीं यानी थी मुझ को चश्म-नुमाई तमाम शब
جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیں یعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب
جب میں نے قصہ شروع کیا اور آنکھیں کھولیں، تو اس کا مطلب تھا کہ مجھے پوری رات تک گھور کر دیکھا گیا۔
3
चश्मक चली गई थी सितारों की सुब्ह तक की आसमाँ ने दीदा-दराई तमाम शब
چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تک کی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب
सितारों की सुबह का नशा गुज़र गया, बस तड़प बाकी रही، اور آسمان نے ساری رات देखी۔
4
बख़्त-ए-सियह ने देर में कल यावरी सी की थी दुश्मनों से उस को लड़ाई तमाम शब
بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کی تھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب
بختِ سیاہ نے دیر میں کل یاوری سی کی تھی؛ دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب۔
5
बैठे ही गुज़री वादे की शब वो न आ फिरा ईज़ा अजब तरह की उठाई तमाम शब
بیٹھے ہی گزری وعدے کی شب وہ نہ آ پھرا ایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب
بیٹھے ہی گزر گئی وعدے کی شب، وہ نہ آیا پھرا۔ عذاب عجب طرح کی اٹھائی تمام شب۔
6
सन्नाहटें से दिल से गुज़र जाएँ सो कहाँ बुलबुल ने गो की नाला-सराई तमाम शब
سناہٹے سے دل سے گزر جائیں سو کہاں بلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب
وہ خاموشی سے دل سے کیسے گزر جائے گا؟ بلبل نے پوری رات 'گو' کے تمام نالے سَرَاوے گائے۔
7
तारे से मेरी पलकों पे क़तरे सरिश्क के देते रहे हैं 'मीर' दिखाई तमाम शब
تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کے دیتے رہے ہیں میرؔ دکھائی تمام شب
ستارے سے میری پلکوں پر شبنم کے قطرے گرے، 'میر' نے پوری رات دکھائی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.