जब मैं शुरू क़िस्सा किया आँखें खोल दीं
यानी थी मुझ को चश्म-नुमाई तमाम शब
“When I started the tale, I opened my eyes, / Meaning, I had been under the gaze all night long.”
— میر تقی میر
معنی
جب میں نے قصہ شروع کیا اور آنکھیں کھولیں، تو اس کا مطلب تھا کہ مجھے پوری رات تک گھور کر دیکھا گیا۔
تشریح
یہ شعر اس لمحے کو بیان کرتا ہے جب قصہ گوئی کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اور صرف نگاہوں کا اعتراف باقی رہتا ہے۔ शायर कहते हैं कि کہانی شروع کرنا تو آسان تھا، اصل صبر تو ساری رات اس نظرِ محبت میںٹے رہنے کا تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
