غزل

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے
میر انیس· Ghazal· 7 shers· radif: मेरे लिए

یہ غزل موت کو رنج و الم سے نجات اور اصل بقا کی نوید کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس میں زندگی بھر احباب کی بے رخی اور موت کے بعد ان کے رسمی گریہ و زاری پر گہرے ملال اور طنز کا اظہار کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ख़ुद नवेद-ए-ज़िंदगी लाई क़ज़ा मेरे लिए शम-ए-कुश्ता हूँ फ़ना में है बक़ा मेरे लिए
خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے شمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیے
موت خود میرے لیے زندگی کی خوشخبری لائی ہے؛ میں ایک بجھی ہوئی شمع ہوں اور فنا ہو جانے میں ہی میری بقا ہے۔
2
ज़िंदगी में तो न इक दम ख़ुश किया हँस बोल कर आज क्यूँ रोते हैं मेरे आश्ना मेरे लिए
زندگی میں تو نہ اک دم خوش کیا ہنس بول کر آج کیوں روتے ہیں میرے آشنا میرے لیے
زندگی میں تو میرے جاننے والوں نے کبھی ہنس بول کر مجھے ایک لمحے کے لیے بھی خوش نہ کیا، تو پھر آج وہ میرے لیے کیوں رو رہے ہیں؟
3
कुंज-ए-उज़्लत में मिसाल-ए-आसिया हूँ गोशा-गीर रिज़्क़ पहुँचाता है घर बैठे ख़ुदा मेरे लिए
کنج عزلت میں مثال آسیا ہوں گوشہ گیر رزق پہنچاتا ہے گھر بیٹھے خدا میرے لیے
میں تنہائی کے کونے میں چکی کی طرح گوشہ نشین بیٹھا رہتا ہوں، اور اللہ مجھے گھر بیٹھے ہی رزق پہنچا دیتا ہے۔
4
तू सरापा अज्र ऐ ज़ाहिद मैं सर-ता-पा गुनाह बाग़-ए-जन्नत तेरी ख़ातिर कर्बला मेरे लिए
تو سراپا اجر اے زاہد میں سر تا پا گناہ باغ جنت تیری خاطر کربلا میرے لیے
اے زاہد! تو سر سے پاؤں تک سراپا ثواب ہے اور میں سر تا پا گناہوں سے بھرا ہوں؛ جنت کا باغ تیرے لیے مخصوص ہے اور کربلا میرے لیے ہے۔
5
नाम रौशन कर के क्यूँकर बुझ न जाता मिस्ल-ए-शम्अ' ना-मुवाफ़िक़ थी ज़माने की हवा मेरे लिए
نام روشن کر کے کیونکر بجھ نہ جاتا مثل شمع نا موافق تھی زمانہ کی ہوا میرے لیے
اپنا نام روشن کر کے میں شمع کی طرح کیونکر نہ بجھ جاتا، کیونکہ زمانے کی ہوا میرے موافق نہیں تھی۔
6
हर नफ़स आईना-ए-दिल से ये आती है सदा ख़ाक तू हो जा तो हासिल हो जिला मेरे लिए
ہر نفس آئینۂ دل سے یہ آتی ہے صدا خاک تو ہو جا تو حاصل ہو جلا میرے لیے
ہر سانس دل کے آئینے سے یہ پکار آتی ہے کہ تو خاک ہو جا تاکہ میرے لیے چمک اور روشنی حاصل ہو سکے۔
7
ख़ाक से है ख़ाक को उल्फ़त तड़पता हूँ 'अनीस' कर्बला के वास्ते मैं कर्बला मेरे लिए
خاک سے ہے خاک کو الفت تڑپتا ہوں انیسؔ کربلا کے واسطے میں کربلا میرے لیے
انیسؔ کہتے ہیں کہ خاک کو خاک ہی سے محبت ہوتی ہے اور وہ تڑپ رہے ہیں، کیونکہ وہ کربلا کے لیے ہیں اور کربلا ان کے لیے ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.