“In solitude's secluded nook, like a millstone I remain; sitting right at home, God Himself provides my daily grain.”
میں تنہائی کے کونے میں چکی کی طرح گوشہ نشین بیٹھا رہتا ہوں، اور اللہ مجھے گھر بیٹھے ہی رزق پہنچا دیتا ہے۔
شاعر نے تنہائی اور گوشہ نشینی کو چکی سے تشبیہ دے کر کمال کا مضمون باندھا ہے، جو اپنی جگہ قائم رہتی ہے مگر اناج خود اس تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ دراصل توکل اور قناعت کا خوبصورت اظہار ہے کہ دنیاوی بھاگ دوڑ چھوڑ کر جب انسان اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے، تو رزق خود اس کی دہلیز پر آتا ہے۔ اس شعر میں درویشانہ بے نیازی اور کامل یقین کا ایک پرسکون احساس چھلکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
