“You are virtue from head to toe, O ascetic, while I am wholly sin; The garden of Paradise is reserved for you, Karbala is meant for me.”
اے زاہد! تو سر سے پاؤں تک سراپا ثواب ہے اور میں سر تا پا گناہوں سے بھرا ہوں؛ جنت کا باغ تیرے لیے مخصوص ہے اور کربلا میرے لیے ہے۔
اس شعر میں شاعر نے خود پسند زاہد اور عشق کے سچے مسافر کے درمیان ایک خوبصورت فرق واضح کیا ہے۔ زاہد کی ساری پارسائی جنت اور بدلے کے لالچ میں قید ہے، جبکہ عاشق کسی صلے کے بغیر وفاداری کا کٹھن راستہ چنتا ہے۔ یہاں کربلا محض مصیبت نہیں بلکہ حق، خود سپردگی اور سچی محبت کے لیے دی جانے والی عظیم قربانی کا استعارہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
