“Death itself brought glad tidings of life for me; an extinguished flame am I, in annihilation lies eternity for me.”
موت خود میرے لیے زندگی کی خوشخبری لائی ہے؛ میں ایک بجھی ہوئی شمع ہوں اور فنا ہو جانے میں ہی میری بقا ہے۔
شاعر یہاں موت کو کسی خوف یا انجام کے بجائے ایک ابدی اور پُرسکون زندگی کی نوید قرار دیتا ہے۔ وہ خود کو بجھی ہوئی شمع سے تشبیہ دیتا ہے، جس کا جلنے اور پگھلنے کا سارا کرب اب ختم ہو چکا ہے۔ صوفیانہ رنگ میں ڈھلا یہ شعر سمجھاتا ہے کہ اپنے فانی وجود کو مٹا دینا (فنا) ہی دراصل ہمیشہ کے لیے امر (بقا) ہو جانا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
