ہر نفس آئینۂ دل سے یہ آتی ہے صدا خاک تو ہو جا تو حاصل ہو جلا میرے لیے

“From the mirror of the heart, with every breath, this call arises: 'Turn into dust, so that a radiant luster may be granted to me.'”

— میر انیس
معنی

ہر سانس دل کے آئینے سے یہ پکار آتی ہے کہ تو خاک ہو جا تاکہ میرے لیے چمک اور روشنی حاصل ہو سکے۔

تشریح

قدیم دور میں دھات کے آئینے کو چمکانے کے لیے راکھ یا مٹی سے رگڑا جاتا تھا تاکہ اس کا زنگ دور ہو اور جلا پیدا ہو۔ شاعر اسی خوبصورت استعارے کے ذریعے بتاتے ہیں کہ دل کا آئینہ ہر سانس پر انسان کی 'انا' سے التجا کر رہا ہے کہ تو مٹ کر خاک بن جا۔ جب تک انسان اپنے غرور اور خود پسندی کو خاک میں نہیں ملاتا، تب تک باطن کا آئینہ حقیقت کی روشنی سے منور نہیں ہو سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.