“In life, they never brought me joy with a kind word or a smile; why do my companions weep today, shedding their tears for me?”
زندگی میں تو میرے جاننے والوں نے کبھی ہنس بول کر مجھے ایک لمحے کے لیے بھی خوش نہ کیا، تو پھر آج وہ میرے لیے کیوں رو رہے ہیں؟
یہ شعر انسانی فطرت اور معاشرتی بے حسی پر ایک گہرا اور درد بھرا طنز ہے۔ شاعر شکوہ کناں ہے کہ جن دوستوں اور پیاروں نے جیتے جی کبھی ہنس بول کر خوشی کا ایک پل بھی نہ بخشا، وہ آج میرے مرنے پر آنسو کیوں بہا رہے ہیں؟ اس میں بعد از مرگ دکھاوے کی قدر دانی کا درد چھپا ہے، جو یہ احساس دلاتا ہے کہ محبت اور اپنائیت انسان کی زندگی میں ہونی چاہیے نہ کہ اس کے رخصت ہونے کے بعد۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
