نام روشن کر کے کیونکر بجھ نہ جاتا مثل شمع نا موافق تھی زمانہ کی ہوا میرے لیے

“Having brightened my name, how could I not be snuffed out like a candle? For the winds of this age were blowing contrary to me.”

— میر انیس
معنی

اپنا نام روشن کر کے میں شمع کی طرح کیونکر نہ بجھ جاتا، کیونکہ زمانے کی ہوا میرے موافق نہیں تھی۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں اپنی ذات کو ایک شمع سے تشبیہ دی ہے جو روشنی بکھیر کر آخرکار خود فنا ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے کردار اور ہنر سے نام تو روشن کیا، لیکن زمانے کی مخالف آندھیوں نے انہیں سلامت نہ رہنے دیا۔ یہ دراصل اس تلخ سچائی کا نہایت پردرد اور خوبصورت اعتراف ہے کہ جو زندگی جتنی روشن ہوتی ہے، حالات کی تند و تیز ہوائیں اکثر اسی کے درپے ہو جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.