غزل

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے
میر انیس· Ghazal· 6 shers· radif: पैदा हुए

یہ غزل انسانی وجود کی پیدائشی کمزوری، بے بسی اور فانی ہونے کے احساس کو موثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ ساتھ ہی، شاعر نے خاکساری اور عاجزی کی اس عظمت کو اجاگر کیا ہے جو انسان کو روحانی بلندیوں اور رفعتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
इब्तिदा से हम ज़ईफ़ ओ ना-तवाँ पैदा हुए उड़ गया जब रंग रुख़ से उस्तुख़्वाँ पैदा हुए
ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے اڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے
ہم ابتدا ہی سے کمزور اور ناتواں پیدا ہوئے تھے؛ جب چہرے کی رنگت اڑ گئی تو ہڈیاں نمایاں ہو گئیں۔
2
ख़ाकसारी ने दिखाईं रिफ़अ'तों पर रिफ़अतें इस ज़मीं से वाह क्या क्या आसमाँ पैदा हुए
خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیں اس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے
عاجزی اور خاکساری نے بلندیوں پر بلندیاں دکھائی ہیں، اور حیرت ہے کہ اسی زمین سے کیسے کیسے بلند آسمان پیدا ہوئے۔
3
इल्म ख़ालिक़ का ख़ज़ाना है मियान-ए-काफ़-ओ-नून एक कुन कहने से ये कौन-ओ-मकाँ पैदा हुए
علم خالق کا خزانہ ہے میان کاف و نون ایک کن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے
خالق کا علم کاف اور نون کے درمیان پوشیدہ خزانہ ہے، اور صرف ایک بار 'کُن' کہنے سے یہ ساری کائنات اور کون و مکاں وجود میں آ گئے۔
4
ज़ब्त देखो सब की सुन ली और कुछ अपनी कही इस ज़बाँ-दानी पर ऐसे बे-ज़बाँ पैदा हुए
ضبط دیکھو سب کی سن لی اور کچھ اپنی کہی اس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے
ہمارا صبر و ضبط دیکھیے کہ ہم نے سب کی بات سن لی مگر اپنی بہت کم کہی؛ زبان کی اتنی فصاحت اور مہارت کے باوجود ہم ایسے بے زبان ثابت ہوئے۔
5
शोर-बख़्ती आई हिस्से में उन्हीं के वा नसीब तल्ख़-कामी के लिए शीरीं-ज़बाँ पैदा हुए
شور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیب تلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے
ہائے ری قسمت کہ بدبختی انہی لوگوں کے حصے میں آئی؛ ایسا لگتا ہے کہ شیریں کلام لوگ صرف غم اور ناکامی کی تلخی سہنے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔
6
एहतियात-ए-जिस्म क्या अंजाम को सोचो 'अनीस' ख़ाक होने को ये मुश्त-ए-उस्तुख़्वाँ पैदा हुए
احتیاط جسم کیا انجام کو سوچو انیسؔ خاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے
انیسؔ، اس جسم کی اتنی پروا اور حفاظت کیوں کرنی، اپنے انجام کے بارے میں سوچو۔ ہڈیوں کی یہ مٹھی تو آخرکار مٹی میں ملنے کے لیے ہی پیدا ہوئی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.