“Humility revealed boundless heights upon heights; oh, from this very earth, what splendid skies arose!”
عاجزی اور خاکساری نے بلندیوں پر بلندیاں دکھائی ہیں، اور حیرت ہے کہ اسی زمین سے کیسے کیسے بلند آسمان پیدا ہوئے۔
اس شعر میں عاجزی اور انکساری کا کمال اتنے دلکش تضاد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔ شاعر نے 'خاکساری' یعنی مٹی ہونے کو آسمانوں کی وسعت و بلندی سے جوڑا ہے، یعنی جب انسان انا مٹا کر خاک نشیں بنتا ہے تو وہی انکسار اسے لامتناہی عظمت عطا کرتا ہے۔ یہ دراصل اس سچائی کا خوبصورت اعتراف ہے کہ سچی رفعت تکبر سے نہیں بلکہ زمین سے جڑے رہنے سے ملتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
