“Frail and powerless from our very beginning were we born; the bare bones emerged only when all color from the face was gone.”
ہم ابتدا ہی سے کمزور اور ناتواں پیدا ہوئے تھے؛ جب چہرے کی رنگت اڑ گئی تو ہڈیاں نمایاں ہو گئیں۔
شاعر یہاں اپنی ازلی بے بسی اور مسلسل رنج و الم کا نوحہ بیان کر رہا ہے کہ وہ تو ابتدا ہی سے کمزور اور ناتواں پیدا ہوا تھا۔ چہرے کی شادابی اور رنگت رخصت ہوئی تو ہڈیوں کا ڈھانچہ یوں ابھر آیا جیسے غموں نے وجود سے گوشت پوست تک چھین لیا ہو۔ یہ شعر دراصل انسانی کمزوری اور اس گہرے درد کی تصویر کشی کرتا ہے جو انسان کو اندر تک کھوکھلا کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
