“Behold this restraint: we heard everyone out, yet barely spoke our own; despite such eloquence of tongue, how utterly speechless we were born.”
ہمارا صبر و ضبط دیکھیے کہ ہم نے سب کی بات سن لی مگر اپنی بہت کم کہی؛ زبان کی اتنی فصاحت اور مہارت کے باوجود ہم ایسے بے زبان ثابت ہوئے۔
اس شعر میں ایک گہری تلخی اور ضبط کی انتہا نظر آتی ہے۔ شاعر زبان و بیان کا بے پناہ ہنر رکھتا ہے، مگر وہ زمانے بھر کے شکوے اور باتیں خاموشی سے سن لیتا ہے اور اپنے دل کی بات کو اندر ہی دبا لیتا ہے۔ فصاحت و بلاغت کے اس کمال کے باوجود خود کو بے زباں بنا لینا دراصل اس خودداری کا المیہ ہے جو سب کچھ کہہ سکنے کے باوجود خاموش رہ کر درد سہنا جانتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
