“Ill-fortune fell to their share alone—alas, cruel destiny! / For the bitterness of life alone were the sweet-tongued born.”
ہائے ری قسمت کہ بدبختی انہی لوگوں کے حصے میں آئی؛ ایسا لگتا ہے کہ شیریں کلام لوگ صرف غم اور ناکامی کی تلخی سہنے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔
اس شعر میں شیرینی اور تلخی کا ایک بڑا ہی دل سوز تضاد برتا گیا ہے۔ شاعر قسمت کا شکوہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جن کے لہجے اور کلام میں شہد جیسی مٹھاس ہے، افسوس کہ تقدیر کے تلخ گھونٹ پینا بھی انہی کا مقدر بنتا ہے۔ یہ دراصل ان حساس دلوں اور فنکاروں کا دکھ ہے جو دنیا کو تو اپنی شیریں بیانی سے نوازتے ہیں، مگر خود زندگی کے تلخ ترین دکھ جھیلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
