“Why pamper this mortal frame? Ponder the end, O Anees; this mere handful of bones was born only to turn to dust.”
انیسؔ، اس جسم کی اتنی پروا اور حفاظت کیوں کرنی، اپنے انجام کے بارے میں سوچو۔ ہڈیوں کی یہ مٹھی تو آخرکار مٹی میں ملنے کے لیے ہی پیدا ہوئی ہے۔
میر انیس اس شعر میں انسانی زندگی کی بے ثباتی اور فانی وجود کا بڑا دل گداز نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ انسان کو سمجھاتے ہیں کہ اس مٹی کے جسم کی اتنی ناز برداریاں اور حفاظت کس لیے، جب اس کا آخری انجام ہی خاک ہو جانا ہے۔ انسان کو محض 'مشتِ استخواں' یعنی ہڈیوں کی ایک مٹھی قرار دے کر وہ یاد دلاتے ہیں کہ ساری سج دھج عارضی ہے اور اصل توجہ اپنی عاقبت پر ہونی چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
