“The Creator's wisdom is a treasure held between the Kāf and Nūn; with a single command of 'Be!', this entire cosmos was born.”
خالق کا علم کاف اور نون کے درمیان پوشیدہ خزانہ ہے، اور صرف ایک بار 'کُن' کہنے سے یہ ساری کائنات اور کون و مکاں وجود میں آ گئے۔
یہ شعر تخلیقِ کائنات کے اس پُرجلال لمحے کا بیان ہے جب خالقِ کائنات نے محض لفظِ 'کُن' (ہو جا) فرمایا اور یہ سارا جہاں وجود میں آ گیا۔ 'کُن' عربی کے دو حروف یعنی کاف اور نون سے مل کر بنا ہے، اور شاعر کا کہنا ہے کہ خدا کا لامحدود علم اور قدرت اسی ایک کلمے میں سموئی ہوئی ہے۔ بس ایک فرمان کی دیر تھی کہ زمین و آسمان اور پورا کون و مکاں اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ جگمگا اٹھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
