غزل

بے نیازی میں تجھ کو کیا نہ ہوا

بے نیازی میں تجھ کو کیا نہ ہوا

یہ غزل محبوب کی بے نیازی، سرد مہری اور لاپروائی پر ایک پُردَرد شکوہ ہے۔ شاعر اس بات پر حسرت و رنج کا اظہار کرتا ہے کہ دل کے بے وفا نہ ہونے کی وجہ سے اسے بے انتہا دکھ اور ناحق رنج برداشت کرنا پڑا۔

Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
बे-नियाज़ी में तुझ को क्या न हुआ अपने बंदों का तू ख़ुदा न हुआ
بے نیازی میں تجھ کو کیا نہ ہوا اپنے بندوں کا تو خدا نہ ہوا
تو نے اپنی بے نیازی میں کیا کچھ بن کر نہیں دکھایا، مگر اپنے ہی بندوں کے لیے کبھی سچا خدا ثابت نہ ہو سکا۔
2
रंज-ए-बे-जा न खींचता हरगिज़ दिल मिरा हैफ़ बे-वफ़ा न हुआ
رنج بے جا نہ کھینچتا ہرگز دل مرا حیف بے وفا نہ ہوا
میرا دل یہ بلاوجہ کا دکھ اور رنج کبھی نہ جھیلتا؛ افسوس کہ وہ بے وفا نہ ہوا۔
3
जान तक दे चुके हम ऐ यारो तो भी क़ातिल का मुद्दआ न हुआ
جان تک دے چکے ہم اے یارو تو بھی قاتل کا مدعا نہ ہوا
اے دوستو، ہم اپنی جان تک قربان کر چکے ہیں، مگر پھر بھی قاتل کا مقصد پورا نہ ہوا۔
4
दिल हुआ जल के तूतिया तो भी तिरी आँखों से आश्ना न हुआ
دل ہوا جل کے توتیا تو بھی تری آنکھوں سے آشنا نہ ہوا
میرا دل جل کر آنکھوں کا سرمہ بن گیا، لیکن اس کے باوجود وہ تمہاری آنکھوں سے آشنا نہ ہو سکا۔
5
ज़िंदगी का समर ये पाया मैं शुक्र-ए-अल्लाह कोई ख़फ़ा न हुआ
زندگی کا ثمر یہ پایا میں شکر اللہ کوئی خفا نہ ہوا
مجھے اپنی زندگی کا ثمر بس یہ ملا کہ اللہ کا شکر ہے مجھ سے کوئی ناراض نہیں ہوا۔
6
ऐ नसीम-ए-सहर तिरी दौलत ग़ुंचा-ए-दिल कसू का वा न हुआ
اے نسیم سحر تری دولت غنچۂ دل کسو کا وا نہ ہوا
اے صبح کی ہوا، تیرے فیض کے باوجود کسی کے بھی دل کی کلی نہ کھل سکی۔
7
आईना देख ये लगा कहने इश्क़-ए-बे-जा भी मुब्तला न हुआ
آئینہ دیکھ یہ لگا کہنے عشق بے جا بھی مبتلا نہ ہوا
آئینے میں دیکھ کر وہ کہنے لگا کہ یہ بےجا عشق بھی پوری طرح مبتلا نہ ہو سکا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

بے نیازی میں تجھ کو کیا نہ ہوا | Sukhan AI