“In your sublime indifference, what did you not become? / Yet to your very own devotees, a God you never became.”
تو نے اپنی بے نیازی میں کیا کچھ بن کر نہیں دکھایا، مگر اپنے ہی بندوں کے لیے کبھی سچا خدا ثابت نہ ہو سکا۔
یہ شعر ایک انتہائی پردرد اور پرتاثیر شکوہ ہے جو محبوب کی بے رخی یا ذاتِ باری تعالیٰ کی بے نیازی کے حضور پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اپنی لاپروائی اور خود پسندی میں تو نے کائنات کی ہر بلندی تو پا لی، مگر کتنے دکھ کی بات ہے کہ تو ان کا سہارا نہ بن سکا جو تجھ پر جان نثار کرتے تھے۔ یہ بات دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے کہ اصل خدائی لاتعلقی کے پردے میں نہیں، بلکہ اپنے چاہنے والوں کی خبر گیری اور محبت میں پنہاں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
