جان تک دے چکے ہم اے یارو تو بھی قاتل کا مدعا نہ ہوا

“I surrendered even my life, O friends; yet the slayer's purpose was still not fulfilled.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

اے دوستو، ہم اپنی جان تک قربان کر چکے ہیں، مگر پھر بھی قاتل کا مقصد پورا نہ ہوا۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے دوستوں کے سامنے ایک گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کر رہا ہے۔ محبوب کو 'قاتل' کا استعارہ دے کر وہ کہتا ہے کہ اس نے عشق میں اپنی جان کا آخری نذرانہ بھی پیش کر دیا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس سب سے بڑی قربانی کے بعد بھی محبوب مطمئن نہ ہوا اور اس کا نامعلوم مقصد پھر بھی پورا نہ ہو سکا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.