“Though my heart burned down to collyrium dust, / It still never found acquaintance with your eyes.”
میرا دل جل کر آنکھوں کا سرمہ بن گیا، لیکن اس کے باوجود وہ تمہاری آنکھوں سے آشنا نہ ہو سکا۔
روایتی شاعری میں 'توتیا' آنکھوں میں ڈالے جانے والے ایک خاص سرمے کو کہتے ہیں جو جل کر باریک سرمگیں دھول بنتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کا دل ہجر و عشق کی آگ میں جل کر راکھ ہو گیا تاکہ توتیا بن کر محبوب کی آنکھوں کی زینت بن سکے۔ مگر المیہ دیکھیے کہ خود کو خاک کر دینے کے بعد بھی محبوب کی نگاہوں نے اسے کبھی اپنا نہ جانا اور وہ ہمیشہ کے لیے بے گانہ ہی رہا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
