زندگی کا ثمر یہ پایا میں شکر اللہ کوئی خفا نہ ہوا

“This is the only fruit of life I reaped: thank God, no soul was left displeased with me.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

مجھے اپنی زندگی کا ثمر بس یہ ملا کہ اللہ کا شکر ہے مجھ سے کوئی ناراض نہیں ہوا۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں زندگی کی اصل کمائی کو دنیاوی مال و جاہ کے بجائے انسانوں کے دل نہ دکھانے میں تلاش کیا ہے۔ لفظ 'ثمر' کے ذریعے وہ اپنی عمر بھر کی ریاضت کا حاصل یہ بتاتے ہیں کہ ان کی ذات سے کبھی کسی کے دل میں کوئی رنجش یا ملال پیدا نہیں ہوا۔ یہ بے انتہا عاجزی اور محبت سے لبریز بات ہے، جو یاد دلاتی ہے کہ کسی کو ناراض کیے بغیر مسکرا کر جی لینا ہی دراصل سب سے بڑی کامیابی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.