غزل

احدیّت کا جب ورود ہوا

احدیّت کا جب ورود ہوا

یہ غزل صوفیانہ فلسفے اور نظریۂ وحدت الوجود کے عمیق مضامین پر مبنی ہے۔ اس میں ذاتِ مطلق (احدیت) کے نزول اور نورِ وحدت کے مشاہدے سے لے کر خالق و خلق کے وجود پانے کے روحانی اور کائناتی سفر کو فکری و صوفیانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
अहदिय्यत का जब वुरूद हुआ नूर-ए-वहदत का तब शुहूद हुआ
احدیّت کا جب ورود ہوا نور وحدت کا تب شہود ہوا
جب احدیت کا نزول اور ظہور ہوا، تب نورِ وحدت ہر طرف عیاں اور مشاہدے میں آیا۔
2
वाहिदिय्यत हुई नमूद इस पर ख़ालिक़-ओ-ख़ल्क़ का वजूद हुआ
واحدیّت ہوئی نمود اس پر خالق و خلق کا وجود ہوا
جب وحدانیت (واحدیت) کا ظہور ہوا، تو خالق اور مخلوق کا وجود قائم ہوا۔
3
आलम-ए-अरवाह का हुआ पैदा शुक्र-ए-हस्ती हुआ सुजूद हुआ
عالم ارواح کا ہوا پیدا شکر ہستی ہوا سجود ہوا
جب روحوں کی دنیا پیدا کی گئی تو وجود کا شکر ادا کیا گیا اور سجدہ بجا لایا گیا۔
4
बाद इस के मिसाल का आलम इस पे अज्साम फिर फ़ज़ूद हुआ
بعد اس کے مثال کا عالم اس پہ اجسام پھر فزود ہوا
اس کے بعد عالمِ مثال وجود میں آیا، اور پھر اس پر اجسام یعنی مادی جسموں کی دنیا کا اضافہ ہوا۔
5
इतने पर्दे जो ज़ात ने पहने कोई मोमिन कोई यहूद हुआ
اتنے پردے جو ذات نے پہنے کوئی مومن کوئی یہود ہوا
خدا کی ذات نے اپنے اوپر اتنے پردے ڈال لیے کہ لوگوں میں تفریق پیدا ہو گئی اور کوئی مومن بن گیا تو کوئی یہودی۔
6
नूर-ए-अहमद ने जब तजल्ली की सर-ब-सर ख़ल्क़ कूँ ये सूद हुआ
نور احمد نے جب تجلی کی سر بسر خلق کوں یہ سود ہوا
جب حضرت محمد (احمد) کے نور کا ظہور ہوا، تو تمام مخلوقات کو مکمل طور پر یہ نفع اور بھلائی حاصل ہوئی۔
7
इश्क़ आशिक़ हुआ इसी कूँ देख दिल-ए-नादाँ ब-रंग-ए-ऊद हुआ
عشق عاشق ہوا اسی کوں دیکھ دل ناداں برنگ عود ہوا
اسے دیکھ کر خود عشق بھی عاشق ہو گیا اور یہ نادان دل عود کی طرح سلگنے لگا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

احدیّت کا جب ورود ہوا | Sukhan AI