“When the realm of spirits was brought to being, thanksgiving for existence was offered, and prostration was made.”
جب روحوں کی دنیا پیدا کی گئی تو وجود کا شکر ادا کیا گیا اور سجدہ بجا لایا گیا۔
یہ شعر ہمیں تخلیق کے اس ازلی لمحے میں لے جاتا ہے جب کائنات میں ابھی جسم نہیں بلکہ روحوں کا جہان یعنی 'عالمِ ارواح' آباد ہوا تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ وجود ملنے کے اس پہلے ہی احساس نے شکر گزاری کی صورت اختیار کی اور روحیں اپنے خالق کے آگے سجدہ ریز ہو گئیں۔ یہ زندگی کی نعمت اور رب کے حضور عاجزی کے باطنی تعلق کی بڑی پُراثر اور خوبصورت تصویر کشی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
