اتنے پردے جو ذات نے پہنے کوئی مومن کوئی یہود ہوا

“Behind so many veils did the Divine Essence reside, that one turned believer, another a Jew beside.”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

خدا کی ذات نے اپنے اوپر اتنے پردے ڈال لیے کہ لوگوں میں تفریق پیدا ہو گئی اور کوئی مومن بن گیا تو کوئی یہودی۔

تشریح

اس شعر میں تصوف کی ایک نہایت خوبصورت اور گہری بصیرت بیان کی گئی ہے کہ اصل ذات یعنی خدا تو سراپا ایک ہے، لیکن اس نے اپنی حقیقت پر بے شمار پردے ڈال رکھے ہیں۔ جب انسان کی محدود نگاہ ان حجابوں کے پار نہیں دیکھ پاتی تو وہ اپنے فہم کے مطابق مختلف راستوں میں بٹ جاتی ہے، کوئی مومن بن جاتا ہے اور کوئی یہودی۔ شاعر دراصل یہ سمجھا رہے ہیں کہ مذاہب کے تمام ظاہری اختلافات حق کے بٹ جانے سے نہیں، بلکہ اس ایک سچ کے کمالِ پردہ نشینی سے پیدا ہوئے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.