“When the realm of Absolute Oneness made its descent, the radiant light of Unity stood witnessed and evident.”
جب احدیت کا نزول اور ظہور ہوا، تب نورِ وحدت ہر طرف عیاں اور مشاہدے میں آیا۔
یہ شعر تصوف کے اس لطیف راز کو بیان کرتا ہے جہاں ذاتِ حق غیب سے ظہور کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔ 'احدیت' سے مراد باری تعالیٰ کی وہ مطلق اور بے مثال ذات ہے جو ہر فہم، شکل اور نام سے ماورا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب اس پاک ذات کا نزول ہوا، تو کائنات میں وحدت کا وہ الٰہی نور آشکار ہو گیا جسے ہر جاگتی آنکھ اور بیدار دل نے کھلے طور پر دیکھا اور محسوس کیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
