“Thereafter arose the imaginal realm of similitudes, / Upon which the world of physical bodies was then bestowed.”
اس کے بعد عالمِ مثال وجود میں آیا، اور پھر اس پر اجسام یعنی مادی جسموں کی دنیا کا اضافہ ہوا۔
اس شعر میں شاعر تخلیقِ کائنات کا ایک دلکش صوفیانہ اور فلسفیانہ سفر بیان کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ روحوں کے بعد پہلے 'عالمِ مثال' جلوہ گر ہوا، یعنی وہ لطیف دنیا جہاں ہر شے مادے کے بغیر بس ایک خوابیدہ صورت کی طرح موجود تھی۔ پھر اسی حسین خاکے پر مادی اور جسمانی دنیا کا اضافہ کیا گیا، گویا یہ نظر آنے والی دنیا اسی باطنی اور غیبی حقیقت کا ایک خوبصورت پیکر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
