غزل
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
یہ غزل محبوب کی شرمیلی ادا، ناز و انداز اور ناگہاں دامن چھڑا لینے کے دلفریب لمحات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں عشق کی آمد پر حاصل ہونے والی مسرت کے ساتھ ساتھ دل پر چھا جانے والے وہم و گمان اور بے چینی کی دلنشیں تصویر کشی کی گئی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
शरमा गए लजा गए दामन छुड़ा गए
ऐ इश्क़ मर्हबा वो यहाँ तक तो आ गए
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
اے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئے
وہ شرما کر اور جھجھک کر اپنا دامن چھڑا کر چلے گئے، لیکن اے عشق تیری ہمت کی داد ہے کہ وہ کم از کم یہاں تک تو آئے۔
2
दिल पर हज़ार तरह के औहाम छा गए
ये तुम ने क्या किया मिरी दुनिया में आ गए
دل پر ہزار طرح کے اوہام چھا گئے
یہ تم نے کیا کیا مری دنیا میں آ گئے
میرے دل پر ہزاروں قسم کے وہم و گمان چھا گئے ہیں۔ تم نے میری دنیا میں قدم رکھ کر یہ کیا کر دیا؟
3
सब कुछ लुटा के राह-ए-मोहब्बत में अहल-ए-दिल
ख़ुश हैं कि जैसे दौलत-ए-कौनैन पा गए
سب کچھ لٹا کے راہ محبت میں اہل دل
خوش ہیں کہ جیسے دولت کونین پا گئے
محبت کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا دینے کے بعد بھی اہلِ دل اس طرح خوش ہیں جیسے انہیں دونوں جہانوں کی دولت مل گئی ہو۔
4
सेहन-ए-चमन को अपनी बहारों पे नाज़ था
वो आ गए तो सारी बहारों पे छा गए
صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
باغ کے صحن کو اپنی بہاروں پر بڑا فخر تھا، لیکن جب وہ آئے تو تمام بہاروں پر چھا گئے۔
5
अक़्ल ओ जुनूँ में सब की थीं राहें जुदा जुदा
हिर-फिर के लेकिन एक ही मंज़िल पे आ गए
عقل و جنوں میں سب کی تھیں راہیں جدا جدا
ہر پھر کے لیکن ایک ہی منزل پہ آ گئے
عقل اور جنون کے راستے اگرچہ سب کے لیے الگ الگ تھے، لیکن گھوم پھر کر آخرکار وہ سب ایک ہی منزل پر پہنچ گئے۔
6
अब क्या करूँ मैं फ़ितरत-ए-नाकाम-ए-इश्क़ को
जितने थे हादसात मुझे रास आ गए
اب کیا کروں میں فطرت ناکام عشق کو
جتنے تھے حادثات مجھے راس آ گئے
اب میں عشق کی اس ناکام فطرت کا کیا کروں، کیونکہ زندگی میں جتنے بھی حادثات اور دکھ آئے وہ سب مجھے راس آ گئے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
