شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے — جگر مرادآبادی
“Blushing and overcome with modesty, they tore their hem away and fled; O Love, bravo! At least they ventured this far ahead.”
معنی
وہ شرما کر اور جھجھک کر اپنا دامن چھڑا کر چلے گئے، لیکن اے عشق تیری ہمت کی داد ہے کہ وہ کم از کم یہاں تک تو آئے۔
تشریح
اس شعر میں عاشق کی معصومانہ خوشی اور امید کی بڑی پیاری جھلک ہے۔ محبوب کا شرما کر دامن چھڑا لینا دراصل بیزاری نہیں بلکہ اس کے حیا اور ناز کا حسن ہے۔ عاشق مایوس ہونے کے بجائے اپنے عشق کو داد دیتا ہے کہ چلو محبت کی پہلی جیت تو ہوئی کہ وہ شرمیلے قدم اس کی دہلیز تک کھنچے چلے آئے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
