اب کیا کروں میں فطرت ناکام عشق کو — جگر مرادآبادی
“What shall I do now with this ill-fated nature of love, when every catastrophe has come to suit me so well?”
معنی
اب میں عشق کی اس ناکام فطرت کا کیا کروں، کیونکہ زندگی میں جتنے بھی حادثات اور دکھ آئے وہ سب مجھے راس آ گئے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں عشق کے دکھوں کے عادی ہو جانے کی ایک بڑی خوبصورت اور پراسرار کیفیت بیان ہوئی ہے۔ عاشق نے اس راہ میں اتنے صدمے سہے ہیں کہ اب کوئی حادثہ اسے توڑتا نہیں، بلکہ ہر مصیبت اس کی طبیعت کو راس آ چکی ہے۔ اب المیہ یہ ہے کہ عشق کا شیوہ تو تڑپنا اور برباد ہونا تھا، مگر جب بربادی ہی باعثِ سکون بن جائے تو اس ناکام دل کی بے چینی کہاں جائے؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
