غزل
آدمی آدمی سے ملتا ہے
آدمی آدمی سے ملتا ہے
یہ غزل انسانی تعلقات کے اس المیے کو بیان کرتی ہے جہاں ظاہری میل جول تو عام ہے مگر دلوں کا سچا ملاپ نایاب ہے۔ اس میں محبت کے اس جذبے اور محبوب کی پُراثر سادگی کی بھی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے جو عاشق کے دل سے ہر دکھ اور ستم بھلا دیتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
आदमी आदमी से मिलता है
दिल मगर कम किसी से मिलता है
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
انسان ایک دوسرے سے ملتے تو رہتے ہیں، لیکن دل شاذ و نادر ہی کسی سے ملتا ہے۔
2
भूल जाता हूँ मैं सितम उस के
वो कुछ इस सादगी से मिलता है
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
میں اس کے سارے ظلم و ستم بھول جاتا ہوں، کیونکہ وہ مجھ سے اتنی معصومیت اور سادگی سے ملتا ہے۔
3
आज क्या बात है कि फूलों का
रंग तेरी हँसी से मिलता है
آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا
رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے
آج ایسی کیا بات ہے کہ پھولوں کا رنگ تمہاری ہنسی سے ملتا جلتا ہے۔
4
सिलसिला फ़ित्ना-ए-क़यामत का
तेरी ख़ुश-क़ामती से मिलता है
سلسلہ فتنۂ قیامت کا
تیری خوش قامتی سے ملتا ہے
قیامت کا فتنہ اور ہنگامہ تمہارے دلکش اور خوبصورت قد و قامت سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
5
मिल के भी जो कभी नहीं मिलता
टूट कर दिल उसी से मिलता है
مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے
جو شخص مل کر بھی کبھی اپنا نہیں ہوتا، دل ٹوٹ کر اور شدت سے اسی سے جا ملتا ہے۔
6
कारोबार-ए-जहाँ सँवरते हैं
होश जब बे-ख़ुदी से मिलता है
کاروبار جہاں سنورتے ہیں
ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے
دنیا کے تمام معاملات اور کام کاج اس وقت سنورتے ہیں جب ہوش و حواس کا ملاپ بے خودی اور سرشاری سے ہوتا ہے۔
7
रूह को भी मज़ा मोहब्बत का
दिल की हम-साएगी से मिलता है
روح کو بھی مزا محبت کا
دل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے
روح کو بھی محبت کا مزہ صرف دل کے قریب رہنے یا اس کی ہمسائیگی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
