روح کو بھی مزا محبت کا دل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے

“Even the soul savors the sweet delight of love only through the heart's close companionship.”

— جگر مرادآبادی
معنی

روح کو بھی محبت کا مزہ صرف دل کے قریب رہنے یا اس کی ہمسائیگی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔

تشریح

شاعر نے روح اور دل کے تعلق کو ہمسایوں کے خوبصورت استعارے میں ڈھالا ہے۔ روح گو کہ لامحدود اور نادیدہ ہے، مگر محبت کا اصل لطف اور چاشنی اسے دل کی قربت اور اس کے جذباتی احساس سے ہی نصیب ہوتی ہے۔ یہ شعر دل کی نرمی اور تڑپ کی اہمیت جتلاتا ہے، جو روح کو بھی محبت کی خوشبو سے سرشار کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.