“The affairs of the world find harmony and grace, when conscious reason meets ecstasy's embrace.”
دنیا کے تمام معاملات اور کام کاج اس وقت سنورتے ہیں جب ہوش و حواس کا ملاپ بے خودی اور سرشاری سے ہوتا ہے۔
یہ شعر زندگی اور دنیاوی معاملات کا ایک دلکش راز کھولتا ہے کہ دنیا کے کام محض نپی تلی عقل اور تدبیر سے نہیں سنورتے۔ جب فہم و فراست یعنی ہوش کے ساتھ دل کا جذبہ، لگن اور والہانہ سرشاری یعنی بے خودی بھی شامل ہو جائے، تب ہی ہر عمل میں اصل حسن پیدا ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ عقل اور عشق کے حسین ملاپ کا نام ہے جو زندگی کو باوقار بناتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
