“The rising tumult of the Judgment Day / Finds its thread in your tall, graceful sway.”
قیامت کا فتنہ اور ہنگامہ تمہارے دلکش اور خوبصورت قد و قامت سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کے دلکش اور سرو قد ہونے کی تعریف بڑے ہی شوخ اور پیارے انداز میں کی ہے۔ اردو غزل کی روایت میں محشر کے ہنگامے کو اکثر محبوب کے اٹھ کھڑے ہونے سے جوڑا جاتا ہے، گویا اس کے اٹھتے ہی دلوں میں ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ شاعر کہنا چاہ رہا ہے کہ قیامت کے سارے فتنوں کا سراغ تو تمہارے حسین قد و قامت سے ہی جا ملتا ہے۔ یہ دراصل حسن کے اس جادو کا اظہار ہے جو ایک ہی جھلک میں دنیا کے سارے ہوش و حواس چرا لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
