مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے

“The one who remains ever elusive, even when we meet—to that very soul my shattered heart surrenders, complete.”

— جگر مرادآبادی
معنی

جو شخص مل کر بھی کبھی اپنا نہیں ہوتا، دل ٹوٹ کر اور شدت سے اسی سے جا ملتا ہے۔

تشریح

یہ شعر محبت کے ایک بڑے خوبصورت اور درد بھرے تضاد کو بیان کرتا ہے کہ دل اکثر اسی کے پیچھے بھاگتا ہے جو پاس ہو کر بھی ہاتھ نہیں آتا۔ محبوب روبرو ہو کر بھی باطنی طور پر ایک فاصلے پر رہتا ہے، لیکن دل کی کشش اسی دوری کی وجہ سے اور بڑھ جاتی ہے۔ لفظ 'ٹوٹ کر ملنا' میں کمال کی وسعت ہے، جو بیک وقت بے پناہ چاہت کی شدت اور اس چاہت میں دل کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے دکھ کو ظاہر کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.