“I forget every cruelty dealt by her hand, with such sheer innocence does she meet me.”
میں اس کے سارے ظلم و ستم بھول جاتا ہوں، کیونکہ وہ مجھ سے اتنی معصومیت اور سادگی سے ملتا ہے۔
یہ شعر محبت کی اس دلکش بے بسی اور وسعتِ قلب کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں محبوب کی ایک ادا پر دل کے سارے گلے شکوے مٹ جاتے ہیں۔ محبوب نے چاہے کتنے ہی ستم ڈھائے ہوں، مگر جب وہ نہایت معصومیت اور سادگی سے ملتا ہے تو اس کا بھولا پن پچھلے تمام زخموں پر مرہم رکھ دیتا ہے۔ یہ عاشق کے دل کی وہ پیاری کمزوری ہے جو ستمگر کے پُرخلوص انداز کے سامنے ہر بار مسکرا کر ہتھیار ڈال دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
