غزل

ज़मीर-ए-लाला मय-ए-लाल से हुआ लबरेज़

ज़मीर-ए-लाला मय-ए-लाल से हुआ लबरेज़
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل عشق کے نشہ آور اثرات کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر نے کہا ہے کہ لالا کا ضمیر عشق کے شراب سے مست ہو گیا۔ عشق کے اشارے سے صوفی نے پرہیز توڑ دیا، اور عشق نے اپنی بساط بچھائی۔ شاعر کا خیال ہے کہ محبوب کی نظر کا گردش ہی عاشق کی زندگی میں ایک ہنگامہ خیز افراتفری پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ज़मीर-ए-लाला मय-ए-लाल से हुआ लबरेज़ इशारा पाते ही सूफ़ी ने तोड़ दी परहेज़
لالا کا زمیر، لال کے مے سے مست ہوا، اور اشارہ پاتے ہی صوفی نے اپنا پرہیز توڑ دیا۔
2
बिछाई है जो कहीं इश्क़ ने बिसात अपनी किया है उस ने फ़क़ीरों को वारिस-ए-परवेज़
جہاں کہیں عشق نے اپنی بساط بچھائی ہے، اس نے وہاں کے فقیروں کو وارثِ پرویژ بنا دیا ہے۔
3
पुराने हैं ये सितारे फ़लक भी फ़र्सूदा जहाँ वो चाहिए मुझ को कि हो अभी नौ-ख़ेज़
یہ ستارے پرانے ہیں اور فلک بھی فرسودہ ہے، مگر جہاں مجھے یہ چاہیے، وہاں یہ ابھی نئے بنیں۔
4
किसे ख़बर है कि हंगामा-ए-नशूर है क्या तिरी निगाह की गर्दिश है मेरी रुस्ता-ख़ेज़
کون جانتا کہ یہ کیسا ہنگامہ-ئے-نشور ہے، کیا یہ تیری نگاہ کی گردش ہے جو مجھے سرکش کر رہی ہے۔
5
छीन लज़्ज़त-ए-आह-ए-सहर-गही मुझ से कर निगह से तग़ाफ़ुल को इल्तिफ़ात आमेज़
مجھ سے صبح کی آہ کا لطف نہ چھیننا، اور نہ ہی نظر سے اس محبت بھرے سلوک کو نظرانداز کرنا۔
6
दिल-ए-ग़मीं के मुआफ़िक़ नहीं है मौसम-ए-गुल सदा-ए-मुर्ग़-ए-चमन है बहुत नशात अंगेज़
دلِ غمگین کے موافق نہیں ہے موسمِ گل؛ صداِ مرغِ چمن ہے بہت نشات انگیز۔
7
हदीस-ए-बे-ख़बराँ है तू बा ज़माना ब-साज़ ज़माना बा तो साज़द तू बा ज़माना सातेज़
تم دنیا کے فیشن کی ایک سادہ دھن ہو؛ تم صرف دور کے نقل کرنے والے ہو، اور دور خود ہی موسیقی کے استاد ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ज़मीर-ए-लाला मय-ए-लाल से हुआ लबरेज़ | Sukhan AI