غزل
ये कौन ग़ज़ल-ख़्वाँ है पुर-सोज़ ओ नशात-अंगेज़
ये कौन ग़ज़ल-ख़्वाँ है पुर-सोज़ ओ नशात-अंगेज़
یہ غزل ایک ایسے غزل خواں کی تعریف کرتی ہے جو بے حد پرجوش اور نشاط انگیز ہے۔ اس میں نہ صرف ملکوکانہ انداز ہے، بلکہ ایک بے سلطنت پرواز بھی ہے۔ یہ غزل اس فقر کا ذکر کرتی ہے جو اب صوفی حفلوں میں نہیں، بلکہ دل کے خون میں رچ بس گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ये कौन ग़ज़ल-ख़्वाँ है पुर-सोज़ ओ नशात-अंगेज़
अंदेशा-ए-दाना को करता है जुनूँ-आमेज़
یہ کون غزل خواں ہے جو بہت سوز و گداز اور نشاط انگیز ہے، جو محبوب کی جھلک کو بھی جنون بنا دیتا ہے۔
2
गो फ़क़्र भी रखता है अंदाज़-ए-मुलूकाना
ना-पुख़्ता है परवेज़ी बे-सल्तनत-ए-परवेज़
گو فقر بھی رکھتا ہے اندازِ ملکوکانا کا مطلب ہے کہ ایک بھکاری میں بھی بادشاہ جیسا انداز ہوتا ہے۔ اور ناپُختہ ہے پروےزی بے سلطنتِ پروےز کا مطلب ہے کہ عشق میں کوئی بھی شخص بغیر عشق کی حالت کے غیر مستحکم ہوتا ہے۔
3
अब हुजरा-ए-सूफ़ी में वो फ़क़्र नहीं बाक़ी
ख़ून-ए-दिल-ए-शेराँ हो जिस फ़क़्र की दस्तावेज़
اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی، خونِ دلِ شیراں ہو جس فقر کی دستاویز۔
4
ऐ हल्क़ा-ए-दरवेशाँ वो मर्द-ए-ख़ुदा कैसा
हो जिस के गरेबाँ में हंगामा-ए-रुस्ता-ख़ेज़
اے حلقہ درویشاں، وہ مردِ خدا کیسا، ہو جس کے گریباں میں ہنگامہ رُستا خیز۔
5
जो ज़िक्र की गर्मी से शो'ले की तरह रौशन
जो फ़िक्र की सुरअत में बिजली से ज़ियादा तेज़
وہ جو ذکر کی گرمی سے شعلے کی طرح روشن ہو، اور فکر کی صورت میں بجلی سے زیادہ تیز ہو۔
6
करती है मुलूकीय्यत आसार-ए-जुनूँ पैदा
अल्लाह के निश्तर हैं तैमूर हो या चंगेज़
یہ (ملوکیّت) جنون کے آثار پیدا کرتی ہے؛ تیمور ہو یا چنگیز، یہ اللہ کی قدرت کے نشان ہیں۔
7
यूँ दाद-ए-सुख़न मुझ को देते हैं इराक़ ओ पारस
ये काफ़िर-ए-हिन्दी है बे-तेग़-ओ-सिनाँ ख़ूँ-रेज़
جیسے عراق اور پارس مجھے شاعری کا احسان دیتے ہیں، یہ کافرِ ہندی بغیر لگام اور بغیر سیناں خونریزی کرنے والا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
