غزل

वही मेरी कम-नसीबी वही तेरी बे-नियाज़ी

वही मेरी कम-नसीबी वही तेरी बे-नियाज़ी
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل تقدیر کے تضادات اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنی کم نصیبی کو ایک نامعلوم 'کمالِ نینوازی' سے جوڑتا ہے، اور زندگی کے اس دوہرے مقام کو بیان کرتا ہے جہاں جگہ اور وجود کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ یہ محبت، فریب اور تقدیر کے جال میں پھنسے انسانی تجربات پر ایک گہرا تنقیدی اظہار ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
वही मेरी कम-नसीबी वही तेरी बे-नियाज़ी मिरे काम कुछ न आया ये कमाल-ए-नै-नवाज़ी
وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی
وہی میری کم-نصبی، وہی تیری بے نیازی؛ میرے کام کچھ نہ آیا، یہ کمالِ نینوازی۔
2
मैं कहाँ हूँ तू कहाँ है ये मकाँ कि ला-मकाँ है ये जहाँ मिरा जहाँ है कि तिरी करिश्मा-साज़ी
میں کہاں ہوں تو کہاں ہے یہ مکاں کہ لا مکاں ہے یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی
میں کہاں ہوں اور تو کہاں ہے؟ کیا یہ مکان ہے یا نہیں؟ کیا یہ جہاں میرا ہے یا تیری کرشمہ سازی؟
3
इसी कश्मकश में गुज़रीं मिरी ज़िंदगी की रातें कभी सोज़-ओ-साज़-ए-'रूमी' कभी पेच-ओ-ताब-ए-'राज़ी'
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں کبھی سوز و ساز رومیؔ کبھی پیچ و تاب رازیؔ
اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں، کبھی سوز و سازِ 'رومی'، کبھی پیچ و تابِ 'رازی'۔
4
वो फ़रेब-ख़ुर्दा शाहीं कि पला हो करगसों में उसे क्या ख़बर कि क्या है रह-ओ-रस्म-ए-शाहबाज़ी
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی
وہ فریب‌خردہ شاہی جو گردوں میں پنہاں ہے، اسے کیا خبر کہ شاہبازی کے رواج و رسوم کیا ہیں؟
5
न ज़बाँ कोई ग़ज़ल की न ज़बाँ से बा-ख़बर मैं कोई दिल-कुशा सदा हो अजमी हो या कि ताज़ी
نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میں کوئی دل کشا صدا ہو عجمی ہو یا کہ تازی
نہ یہ زبان غزل کی زبان ہے، نہ یہ زبان سے باخبر ہے۔ چاہے یہ ازمی کی میٹھی آواز ہو، یا کوئی تازہ، نئی آواز۔
6
नहीं फ़क़्र ओ सल्तनत में कोई इम्तियाज़ ऐसा ये सिपह की तेग़-बाज़ी वो निगह की तेग़-बाज़ी
نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا یہ سپہ کی تیغ بازی وہ نگہ کی تیغ بازی
فقر اور سلطنت میں کوئی امتیاز نہیں ہے؛ یہ سپاہی کی تلواربازی ہے اور نگاہ کی تلواربازی۔
7
कोई कारवाँ से टूटा कोई बद-गुमाँ हरम से कि अमीर-ए-कारवाँ में नहीं ख़ू-ए-दिल-नवाज़ी
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بد گماں حرم سے کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی
کوئی کارواں سے ٹوٹا، کوئی بدگمان حرم سے؛ کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازِی۔ (یعنی: कुछ कारवाँ टूट गए हैं, कुछ भ्रम के महल से; क्योंकि कारवाँ का अमीर दिल को मोह लेने वाली नज़ाकत नहीं रखता।)
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.