غزل

निगाह-ए-फ़क़्र में शान-ए-सिकंदरी क्या है

निगाह-ए-फ़क़्र में शान-ए-सिकंदरी क्या है
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل پوچھتی ہے کہ نظرِ فقر میں شانِ سکندر جیسی کیا ہے؟ یہ کہتی ہے کہ اگر کسی کے پاس خراج کی گدا نہ ہو اور خدا سے نوامیدی نہ ہو، تو کافری کیا ہے؟ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ دل کا فیصلہ صرف نظر سے ہوتا ہے، اور اگر نظر میں شوخی نہ ہو، تو دلبری کیا ہے؟

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
निगाह-ए-फ़क़्र में शान-ए-सिकंदरी क्या है ख़िराज की जो गदा हो वो क़ैसरी क्या है
نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے
تپنے والے کی نگاہ میں سکندر کی شان کیا ہے، اور اگر خراج کی گدا ہی ہو تو وہ کیسری کیا ہے؟
2
बुतों से तुझ को उमीदें ख़ुदा से नौमीदी मुझे बता तो सही और काफ़िरी क्या है
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
بُتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نؤمیدی۔ مجھے بتا تو سہی اور کافرِی کیا ہے۔
3
फ़लक ने उन को अता की है ख़्वाजगी कि जिन्हें ख़बर नहीं रविश-ए-बंदा-परवरी क्या है
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے
آسمان نے انہیں وہ چاہت عطا کی ہے، ان لوگوں کے لیے جو نہیں جانتے کہ سورج کی بندہ پروری کیا ہے।
4
फ़क़त निगाह से होता है फ़ैसला दिल का न हो निगाह में शोख़ी तो दिलबरी क्या है
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
دل کا فیصلہ صرف نگاہ سے ہوتا ہے، اگر نگاہ میں نشاط نہ ہو تو دلبر کیا ہے؟
5
इसी ख़ता से इताब-ए-मुलूक है मुझ पर कि जानता हूँ मआल-ए-सिकंदरी क्या है
اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے
اسی خامی سے اِتابِ ملُوک مجھ پر ہے، کہ جانتا ہوں مآلِ سِکندری کیا ہے
6
किसे नहीं है तमन्ना-ए-सरवरी लेकिन ख़ुदी की मौत हो जिस में वो सरवरी क्या है
کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے
کسے نہیں ہے تمنأے سروری لیکن خُودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے؟
7
ख़ुश आ गई है जहाँ को क़लंदरी मेरी वगर्ना शे'र मिरा क्या है शाइ'री क्या है
خوش آ گئی ہے جہاں کو قلندری میری وگرنہ شعر مرا کیا ہے شاعری کیا ہے
میری کلندری سے جہاں خوش ہو گیا ہے، ورنہ میرا شعر اور میری شاعری کیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.