Sukhan AI
غزل

न तू ज़मीं के लिए है न आसमाँ के लिए

न तू ज़मीं के लिए है न आसमाँ के लिए
علامہ اقبال· Ghazal· 8 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ کوئی شخص نہ تو زمین کے لیے ہے اور نہ ہی آسمان کے لیے، بلکہ وہ خود میں ایک الگ وجود ہے۔ یہ محبت اور جذبات کی پیچیدگیوں سے بات کرتی ہے، جو کسی بیرونی جگہ یا مقصد تک محدود نہیں ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
न तू ज़मीं के लिए है न आसमाँ के लिए जहाँ है तेरे लिए तू नहीं जहाँ के लिए
نہ تو زمین کے لیے ہو اور نہ آسمان کے لیے، جہاں تم ہو، تم جہاں کے لیے نہیں ہو۔
3
मक़ाम-ए-परवरिश-ए-आह-ओ-लाला है ये चमन न सैर-ए-गुल के लिए है न आशियाँ के लिए
یہ باغ آہ و لاہ کے پرورش کا مقام ہے، نہ کہ گلوں کی سیر یا آشیانہ بنانے کے لیے۔
4
रहेगा रावी ओ नील ओ फ़ुरात में कब तक तिरा सफ़ीना कि है बहर-ए-बे-कराँ के लिए
اے راوی، اے نیل، اے فرات، تم کب تک رہو گے؟ تمہارا جہاز تو بے کنار، بے قرار سمندر کے لیے ہے۔
5
निशान-ए-राह दिखाते थे जो सितारों को तरस गए हैं किसी मर्द-ए-राह-दाँ के लिए
وہ جو ستاروں کو راستہ دکھاتے تھے، اب زندگی کے راستے پر کسی راہ داں کے لیے تڑپ گئے۔
6
निगह बुलंद सुख़न दिल-नवाज़ जाँ पुर-सोज़ यही है रख़्त-ए-सफ़र मीर-ए-कारवाँ के लिए
نگاہیں بلند، سُخن دلکش، جانِ دلنواز، پر سوز، یہی ہے مسافرِ کاروان کے لیے سفر کا راستہ۔
7
ज़रा सी बात थी अंदेशा-ए-अजम ने उसे बढ़ा दिया है फ़क़त ज़ेब-ए-दास्ताँ के लिए
یہ ایک معمولی بات تھی، جسے دنیا کے خوف نے صرف کہانی کی خوبصورتی کے لیے بڑھا دیا ہے۔
8
मिरे गुलू में है इक नग़्मा जिब्राईल-आशोब संभाल कर जिसे रक्खा है ला-मकाँ के लिए
میرے گلو میں ایک نغمہ ہے، جو جبریل-اشوب کا ہے اور جسے میں نے ایک بے نشان جگہ کے لیے سنبھال کر رکھا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

न तू ज़मीं के लिए है न आसमाँ के लिए | Sukhan AI