غزل
न तू ज़मीं के लिए है न आसमाँ के लिए
न तू ज़मीं के लिए है न आसमाँ के लिए
یہ غزل بتاتی ہے کہ کوئی شخص نہ تو زمین کے لیے ہے اور نہ ہی آسمان کے لیے، بلکہ وہ خود میں ایک الگ وجود ہے۔ یہ محبت اور جذبات کی پیچیدگیوں سے بات کرتی ہے، جو کسی بیرونی جگہ یا مقصد تک محدود نہیں ہیں۔
نغمہ سنیں
1
न तू ज़मीं के लिए है न आसमाँ के लिए
जहाँ है तेरे लिए तू नहीं जहाँ के लिए
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
نہ تو زمین کے لیے ہو اور نہ آسمان کے لیے، جہاں تم ہو، تم جہاں کے لیے نہیں ہو۔
2
ये अक़्ल ओ दिल हैं शरर शोला-ए-मोहब्बत के
वो ख़ार-ओ-ख़स के लिए है ये नीस्ताँ के लिए
یہ عقل و دل ہیں شرر شعلۂ محبت کے
وہ خار و خس کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے
یہ عقل و دل ہیں شرر شولا-ئے محبت کے، وہ خاڑ و خس کے لیے ہیں یہ نِستاں کے لیے
3
मक़ाम-ए-परवरिश-ए-आह-ओ-लाला है ये चमन
न सैर-ए-गुल के लिए है न आशियाँ के लिए
مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ چمن
نہ سیر گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے
یہ باغ آہ و لاہ کے پرورش کا مقام ہے، نہ کہ گلوں کی سیر یا آشیانہ بنانے کے لیے۔
4
रहेगा रावी ओ नील ओ फ़ुरात में कब तक
तिरा सफ़ीना कि है बहर-ए-बे-कराँ के लिए
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک
ترا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لیے
اے راوی، اے نیل، اے فرات، تم کب تک رہو گے؟ تمہارا جہاز تو بے کنار، بے قرار سمندر کے لیے ہے۔
5
निशान-ए-राह दिखाते थे जो सितारों को
तरस गए हैं किसी मर्द-ए-राह-दाँ के लिए
نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے
وہ جو ستاروں کو راستہ دکھاتے تھے، اب زندگی کے راستے پر کسی راہ داں کے لیے تڑپ گئے۔
6
निगह बुलंद सुख़न दिल-नवाज़ जाँ पुर-सोज़
यही है रख़्त-ए-सफ़र मीर-ए-कारवाँ के लिए
نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
نگاہیں بلند، سُخن دلکش، جانِ دلنواز، پر سوز، یہی ہے مسافرِ کاروان کے لیے سفر کا راستہ۔
7
ज़रा सी बात थी अंदेशा-ए-अजम ने उसे
बढ़ा दिया है फ़क़त ज़ेब-ए-दास्ताँ के लिए
ذرا سی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسے
بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لیے
یہ ایک معمولی بات تھی، جسے دنیا کے خوف نے صرف کہانی کی خوبصورتی کے لیے بڑھا دیا ہے۔
8
मिरे गुलू में है इक नग़्मा जिब्राईल-आशोब
संभाल कर जिसे रक्खा है ला-मकाँ के लिए
مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لیے
میرے گلو میں ایک نغمہ ہے، جو جبریل-اشوب کا ہے اور جسے میں نے ایک بے نشان جگہ کے لیے سنبھال کر رکھا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
