Sukhan AI
غزل

न हो तुग़्यान-ए-मुश्ताक़ी तो मैं रहता नहीं बाक़ी

न हो तुग़्यान-ए-मुश्ताक़ी तो मैं रहता नहीं बाक़ी
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل محبت کی گہری اہمیت کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ اگر محبوب کی شدید چاہت (تغیان-اے-مشتاقی) نہ ہو تو وہ زندہ نہیں ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس کی زندگی کا وجود صرف یہی چاہت ہے، اور وہ محفل میں کسی درد آشنا کی موجودگی سے قائم ہے۔ اشعار میں محبوب کی یاد کے دائمی اثر اور سچے جذبات کی چمک کا ذکر بھی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हो तुग़्यान-ए-मुश्ताक़ी तो मैं रहता नहीं बाक़ी कि मेरी ज़िंदगी क्या है यही तुग़्यान-ए-मुश्ताक़ी
اگر مشتاقی کی دھارا نہ ہو، تو میں باقی نہیں رہ سکتا؛ کیونکہ میری زندگی یہی مشتاقی کی دھارا ہے۔
2
मुझे फ़ितरत नवा पर पै-ब-पै मजबूर करती है अभी महफ़िल में है शायद कोई दर्द-आश्ना बाक़ी
مجھے فطرت نوا پر قدم بہ قدم مجبور کرتی ہے، شاید ابھی محفل میں کوئی درد-آشنا باقی ہے۔
3
वो आतिश आज भी तेरा नशेमन फूँक सकती है तलब सादिक़ हो तेरी तो फिर क्या शिकवा-ए-साक़ी
آج بھی وہ آتِش تیرا نشیمن پھونک سکتی ہے، اگر دل کو تیری طلب نہ ہو تو پھر سے وار سے کیا شکایت؟
4
कर अफ़रंग का अंदाज़ा उस की ताबनाकी से कि बिजली के चराग़ों से है इस जौहर की बर्राक़ी
کسی غیر ملکی چمک سے اس اندرونی چمک کا اندازہ نہ لگانا، کیونکہ اس کی چمک بجلی کے بلبوں سے نہیں، بلکہ اپنے جوہر سے ہے۔
5
दिलों में वलवले आफ़ाक़-गीरी के नहीं उठते निगाहों में अगर पैदा हो अंदाज़-ए-आफ़ाक़ी
دلوں میں وِلَوِلے آفاقِ گِری کے نہیں اُٹھتے، اگر نگاہوں میں اندازِ آفاقی پیدا نہ ہو۔
6
ख़िज़ाँ में भी कब सकता था मैं सय्याद की ज़द में मिरी ग़म्माज़ थी शाख़-ए-नशेमन की कम औराक़ी
خزاں میں بھی کب آ سکتا تھا میں سیয়াদ کی زِد میں، میری گماز تھی شاخِ نشیمن کی کم اوراقِ۔
7
उलट जाएँगी तदबीरें बदल जाएँगी तक़दीरें हक़ीक़त है नहीं मेरे तख़य्युल की है ख़ल्लाक़ी
تکمیلیں الٹ جائیں گی اور تقدیریں بھی بدل جائیں گی، یہ حقیقت نہیں بلکہ صرف میرے تخیل کا دائرہ ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

न हो तुग़्यान-ए-मुश्ताक़ी तो मैं रहता नहीं बाक़ी | Sukhan AI