मुझे फ़ितरत नवा पर पै-ब-पै मजबूर करती है
अभी महफ़िल में है शायद कोई दर्द-आश्ना बाक़ी
“My nature compels me, step by step, to do so, Perhaps in this gathering, a pain familiar remains.”
— علامہ اقبال
معنی
مجھے فطرت نوا پر قدم بہ قدم مجبور کرتی ہے، شاید ابھی محفل میں کوئی درد-آشنا باقی ہے۔
تشریح
یہ شعر فطری کشش اور اندرونی تنہائی کا اظہار ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میری فطرت مجھے بار بار کسی درد کے قریب لے جاتی ہے۔ یہ ایک گہرا احساس ہے کہ ہر महफ़िल में भी، کوئی ایسا شخص موجود ہے جو دل کے دکھ کو سمجھتا ہو۔
