غزل

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
علامہ اقبال· Ghazal· 6 shers· radif: का

اس غزل میں علامہ اقبال نے مومن کی اخلاقی شائستگی، فراخ دلی اور دلاوری کا ذکر کرتے ہوئے دورِ حاضر کے تعلیمی نظام پر گہرا شکوہ کیا ہے۔ وہ اس بات پر رنجیدہ ہیں کہ شاہین صفت نوجوانوں کو بلند پروازی اور خودداری سکھانے کے بجائے کم تر اور بے مقصد کاموں کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मुसलमाँ के लहू में है सलीक़ा दिल-नवाज़ी का मुरव्वत हुस्न-ए-आलम-गीर है मर्दान-ए-ग़ाज़ी का
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا
مسلمان کے خون میں دل نوازی اور دل جوئی کا سلیقہ شامل ہوتا ہے، اور بہادر غازیوں کی مروت و حسنِ اخلاق ہی وہ خوبی ہے جو پوری دنیا کو مسخر کر لیتی ہے۔
2
शिकायत है मुझे या रब ख़ुदावंदान-ए-मकतब से सबक़ शाहीं बच्चों को दे रहे हैं ख़ाक-बाज़ी का
شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
اے پروردگار، مجھے مدرسے کے اساتذہ سے یہ شکایت ہے کہ وہ شاہین کے بچوں کو مٹی میں کھیلنے کا سبق سکھا رہے ہیں۔
3
बहुत मुद्दत के नख़चीरों का अंदाज़-ए-निगह बदला कि मैं ने फ़ाश कर डाला तरीक़ा शाहबाज़ी का
بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلا کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا
ایک طویل عرصے سے شکار بننے والوں کے دیکھنے کا انداز بدل گیا ہے، کیونکہ میں نے باز کے شکار کرنے کے طریقے اور چالیں بے نقاب کر دی ہیں۔
4
क़लंदर जुज़ दो हर्फ़-ए-ला-इलाह कुछ भी नहीं रखता फ़क़ीह-ए-शहर क़ारूँ है लुग़त-हा-ए-हिजाज़ी का
قلندر جز دو حرف لا الٰہ کچھ بھی نہیں رکھتا فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
قلندر کے پاس 'لا الٰہ' کے سوا کچھ نہیں ہوتا، جبکہ شہر کا فقیہ عربی لغات اور الفاظ کے خزانوں کا قارون بنا بیٹھا ہے۔
5
हदीस-ए-बादा-ओ-मीना-ओ-जाम आती नहीं मुझ को न कर ख़ारा-शग़ाफ़ों से तक़ाज़ा शीशा-साज़ी का
حدیث بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ کو نہ کر خاراشگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا
مجھے شراب، صراحی اور جام کے قصے نہیں آتے؛ پتھر توڑنے والوں سے شیشہ سازی کا تقاضا مت کرو۔
6
कहाँ से तू ने ऐ 'इक़बाल' सीखी है ये दरवेशी कि चर्चा पादशाहों में है तेरी बे-नियाज़ी का
کہاں سے تو نے اے اقبالؔ سیکھی ہے یہ درویشی کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا
اے اقبال! تو نے یہ درویشی اور فقیری کہاں سے سیکھی ہے کہ بادشاہوں کی محفلوں میں بھی تیری بے نیازی کا چرچا ہو رہا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.