“In the Muslim's very blood flows the grace to comfort hearts; chivalry is the world-conquering beauty of valiant warriors.”
مسلمان کے خون میں دل نوازی اور دل جوئی کا سلیقہ شامل ہوتا ہے، اور بہادر غازیوں کی مروت و حسنِ اخلاق ہی وہ خوبی ہے جو پوری دنیا کو مسخر کر لیتی ہے۔
اس شعر میں اقبال سچے بہادر اور باکردار انسان کی پہچان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اصل طاقت جبر میں نہیں بلکہ دلوں کو تسکین بخشنے کے ہنر میں ہے۔ مردِ غازی کی سب سے بڑی کشش اور حسن اس کی 'مروت'، یعنی دوسروں کا لحاظ، شرافت اور نرمی ہے۔ شاعر کا مدعا یہ ہے کہ شمشیر کے زور پر علاقے تو فتح ہو سکتے ہیں، مگر دلوں کی دنیا صرف اخلاق اور انسانیت سے ہی جیتی جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
